اسلام آباد: سرکاری ملازمین پر تبدیلی سرکارکا بہیمانہ تشدد، ڈی چوک میدان جنگ میں تبدیل

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

تبدیلی سرکار کی جانب سے آج اسلام آباد میں تنخواہوں میں اضافے، اپگریڈیشن اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے سرکاری ملازمین پر تبدیلی سرکار کی جانب سے بہیمانہ تشدد کیا گیا اور بزور طاقت احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران درجنوں ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔

مطالبات کے حق میں احتجاج کی کال کلرکس، اساتذہ، وفاقی سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کے اتحاد ’گرینڈ ایمپلائز الائنس‘ کی جانب سے دی گئی تھی۔ احتجاج سے ایک را ت قبل ہی الائنس کے قائدین کو پولیس کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا اور قافلوں کو روکنے کے لئے اسلام آباد کے اطراف بھاری پولیس فورس کو تعینات کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے تمام راستوں کو خاردارتاریں اور کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ تاہم تمام تر رکاوٹوں کے باو جود ہزاروں کی تعداد میں مختلف صوبائی اداروں کے ملازمین نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو ئے۔ وفاقی سیکرٹریٹ کے ملازمین کی جانب سے سیکرٹریٹ کے گیٹ کو مکمل بند کر دیا گیا اور دھرنے دیا۔ پولیس کی جانب سے گیٹ کو کھلوانے کے لئے شدید آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

 

دوسری جانب اپنے طے شدہ روٹ کے مطابق ملازمین نے نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک کی جانب پیش قدمی شروع کی اور ان کو روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے سخت آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ جس کی وجہ سے وفاقی سیکرٹریٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس، شاہراہ دستور، کشمیر ہائی وے اور دیگر شاہراہوں پر مشتمل علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس گرفتاریوں، تشدد اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود مظاہرین کو پسپا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ شاہراہ دستور پر مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا، کشمیرہائی وے بھی مظاہرین نے بند کرکے رکھی۔ سارا دن مظاہرین اور پولیس کے مابین شدید جھڑپیں ہوتی رہیں اور مظاہرین کی جانب سے پیش قدمی جاری رہی۔ شام کی وقت سے اب تک ڈی چوک پر ملازمین دھرنا دیے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان تک مطالبات پورے نہیں کئے جاتے اور حکومت واضح طور پر نوٹیفکیشن کا اجرا نہیں کرتی تب تک ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے اسلام آباد سے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر چنگیز کی قیادت میں وفد نے شرکت کی جبکہ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر و مرکزی رہنما PTUDC نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ،’حکومت وقت آئی ایم ایف کے ایما پر محنت کشوں اور سرکاری ملازمین پر بدترین معاشی حملے کر رہی ہے، افراط زر میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، ریڈیو پاکستان اور دیگر ادارو ں میں جبری برطرفیاں کیں جا ری ہیں، جبکہ نجکاری کی تلوار میں اس وقت ہر ادارہ پر چلائی جا رہی ہے۔ ان تمام مزدور دشمن حملوں کا جواب دینے کے لئے ہم تمام محنت کشوں کو متحد ہو نا ہو گا۔‘

PTUDC کے مرکزی چیئرمین نذر مینگل اور دیگر کی جانب سے جاری ویڈیو بیانات میں ملازمین پر ریاستی تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور ملک گیراحتجاجات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔