آزاد کشمیر: ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کا اپنے مطالبات کے لئے احتجاج جاری

رپورٹ: PTUDC کشمیر

ینگ ڈاکٹرز سدھنوتی میں اپنے مطالبات کی خاطر پچھلے 8 روز سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں تاہم ان کے مطالبات ابھی تک پورے نہیں کئے گئے۔ اس پر ینگ ڈاکٹرز نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت رسمی اور علامتی احتجاجوں کو شاید کمزوری سمجھ رہی ہے۔ آزاد کشمیر بھر کے ینگ ڈاکٹرز اپنی قیادت کے اعلان کے منتظر ہیں، احتجاج کے اگلے مرحلے میں جانے کی تمام تر ذمہ داری بے حس حکومت پر ہوگی۔ڈاکٹرز بند کمروں میں ڈیل کر کے خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس تحریک کومنطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کورونا وبا کے دوران کام کرنے والے تمام عملے کے لئے پنجاب سمیت ملک بھر میں ہر ماہ اضافی الاؤنس کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن یہاں ایک ماہ کے الاؤنس سے بھی ینگ ڈاکٹرز کا بڑاحصہ تاحال محروم ہے۔ حکومت کی ستم ظرفی کہ ڈاکٹرز کی تنخواہوں سے ہی کورونا ریلیف فنڈ کی کٹوتیاں کی ہیں۔ پنجاب میں ایسی تمام کٹوتیاں واپس کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن حکومت آزاد کشمیر اس بارے میں بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

متعدد بارصدر YDA آزادکشمیر ڈاکٹر فہیم شاہ اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عثمان محبوب اعوان اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ آزادحکومت کے نمائندوں تک پہنچا چکے کہ فوری طور آزادکشمیر کے ڈاکٹرز کو وفاق کے مساوی حقوق دیے جاہیں۔نئی اسامیوں کی تخلیق، سلیکشن بورڈ کا انعقاد، وزیراعظم کے اعلان کردہ بونس کی ہاؤس آفیسر اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ وزیر صحت عامہ جو کہ وزیر خزانہ کا چارج بھی رکھتے ہیں اپنے محکمہ جات کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ رویے اورمزدور مخالف پالیسی کی وجہ سے ابھی تک ڈاکٹرز کے مسائل حل نہیں کئے گئے۔ حال ہی میں ریاست کے کچھ محکمہ جات کے ملازمین کی اپ گریڈیشن اور مالی فنڈز کی ادائیگی کی گئی ہے۔ YDA وزیر خزانہ سے سوال کرتی ہے کہ صحت جیسا حساس ترین محکمہ اور اس میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے مسائل سے آپ کو کوئی سروکار نہیں تو کیوں نہ آپ کو اس ذمہ داری سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے؟ دوسرے محکمہ جات اور اپنی عیاشیوں کے لیے فنڈز وافر مقدار میں ہیں لیکن محکمہ صحت کی باری آہے تو شدید مالی بحران کا شور شروع کر دیا جاتا ہے۔ محکمہ مالیات کی بیوروکریسی کی نا اہلی کی وجہ سے آزادکشمیر کا اربوں کا بجٹ لیپس ہونے جا رہا ہے۔

YDA کے چار نکاتی ایجنڈے جس میں سارے ڈاکٹر کمیونٹی کے دیرینہ مسائل اور مطالبے ہیں، جن کے لئیہم کئی سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تاخیری حربوں سے جہاں ہسپتالوں کا نظام خراب ہو رہا ہے وہاں نوجوان ڈاکٹرز کا مستقبل بھی داؤپر لگا ہوا ہے، اس پر سونے پہ سہاگہ ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے ارباب اختیار کا ہتک آمیز اور غیرذمہ دارانہ رویہ ڈاکٹرز کمیونٹی اور حکومت وقت کے درمیاں دوریوں کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ اگر حکومت وقت اور محکمہ مالیات کی ترجیحات میں محکمہ صحت اور عوامی مفاد ہوتا تو اس سے بہتر موقع نہیں تھا کہ لیپس ہونے والے بجٹ کو ہسپتالوں کی اپگریڈیشن اور بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا۔

ترجمان YDA ڈاکٹر راجہ عمر منیر کے مطابق ان تمام عوامل کے پس منظر میں اور بالخصوص وزارت خزانہ کے انتہائی غیرسنجیدہ رویے اور ڈاکٹر مخالف پالیسی کے تناظر میں اگر چارٹر آف ڈیمانڈپرفوری عمل درآمد نہ کیا گیا توYDA عید کے بعد پورے آزادکشمیر بھر کے لیے اپنے مستقبل کا لائحہ عمل واضع کرے گی اور کسی بھی سخت اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ تمام تر صورتحال کی ذمہ داری حکومت وقت اور خاص کر محکمہ مالیات پر ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*