کوئٹہ: حفاظتی سامان کا مطالبہ کرنے پر ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی گرفتاریاں نامنظور

رپورٹ: PTUDC کوئٹہ

بلوچستان میں کورونا وائرس کی وبا  تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن صوبائی حکومت مسلسل غیر ذمہ داری اور نااہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سنجیدہ اقدامات کی بجائے محض ڈرامے کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف بار بار یہ مطالبہ کرر ہے ہیں کہ انہیں ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور تیمارداری کے لیے حفاظی کٹس اور آلات فراہم کیے جائیں تاکہ وہ خود اس موذی وائرس کا شکار نہ ہو۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حفاظی کٹس اور انتظامات کے بغیر ہی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جو کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے کسی خودکشی سے کم نہیں ہے۔

حکومت نے کوئٹہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے شیخ زید ہسپتال کو قرنطینہ مرکز بنایا ہوا ہے لیکن یہ مرکز تمام تر سہولیات اور حفاظتی آلات سے محروم ہے۔ طبی عملے اورمریضوں کو حفاظی آلات فراہم  نہیں کیے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پچھلے دنوں متعدد ڈاکٹرز اور طبی عملہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ اسی حکومتی اہلی اور کورونا وائرس کے حفاظی آلات کی عدم فراہمی کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے کوئٹہ میں گورنر ہاﺅس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا لیکن صوبائی حکومت نے بجائے ان کے مطالبات کو سننے کے پولیس گردی کرتے ہوئے احتجاجی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جو انتہائی قابل مذمت ہے۔  مطالبہ کیا گیا کہ گرفتار ڈاکٹرز اور طبی عملے کو فی الفور رہا کیا جائے اور ینگ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ان کے مطالبات کے مطابق کورونا وائرس کے حفاظی آلات اور سازوسامان فراہم کیے جائیں۔

کرونا وبا سے نبٹنے کے لئے پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی شعبہ صحت کے ملازمین مشکل حالات میں بھی سرگرم عمل ہیں، ایک جانب حکومت میڈیا میں ڈاکٹرز کو ہیرو بنا کر پیش کر رہی ہے وہی پر ان کی مشکلات کے حل کی بجائے ان پر ریاستی تشدد کررہی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ  امداد کے نام پر حفاظتی سامان سے لدے جہاز آرہے ہیں۔ مگر وہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ تک نہیں پہنج  رہے اب جب سامان نہ ملنے پر یہ احتجاج پرمجبور ہوئے ہیں تو ان کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی شروع کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اس طرز عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ اگر ڈاکٹرز کے مطالبات پورے نہ کئے گئے اور ان کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو بلوچستان سمیت پورے ملک میں احتجاجات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*