لاہور :صحت کی ناقص سہولیات کے خلاف پنجاب بھر میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج

رپورٹ: PTUDC لاہور

صحت کی ناقص سہولیات اور اپنے مطالبات کے حق میں مورخہ 13 جولائی کو ینگ ڈاکٹرز نے لاہور، گجرات، ملتان اور فیصل آباد سمیت پورے پنجاب میں حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں مکمل کام چھوڑ ہڑتال کر کے احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ جس میں اپنے مطالبات کے حق اور حکومت مخالف سخت نعرے بازی کی گئی۔

ینگ ڈاکٹرز کے مطابق پنجاب سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے شدید فقدان کے باعث ہیلتھ سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں برن یونٹس، آئی سی یو، کارڈیک کیئریونٹس اور ویٹی لیٹرز کی عدم دستیابی کے باعث ہونے والی اموات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ برن یونٹس نہ ہونے کے باعث سانحہ بہاولپور میں 220 سے زیادہ اموات ہوئیں، جن کا ذمہ دار سیکرٹری ہیلتھ نجم شاہ ہے۔ محکمہ صحت کی تباہی کی وجہ امور صحت سے ناواقف سیکرٹری صحت ہیں۔ اہم امر تو یہ ہے کہ شعبہ صحت کے سیکریٹری الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ امور صحت سے ناواقفیت اور معاملہ فہمی کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث برن یونٹس، کارڈیک یونٹس، ایمرجنسی سروسز، گردہ و مثانہ، جگر اور معدہ کے وارڈز کی شدید کمی ہے۔ سیکرٹری صحت اپنے دور میں وزیرآباد کارڈیک یونٹ، گوجرانوالہ برن یونٹ، میو اسپتال سرجیکل ٹاور، سروز ہسپتال ریڈیالوجی ٹاور اور جوبلی ٹاون ڈینٹل پراجیکٹ جیسے اہم منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ شعبہ صحت میں بیوروکریسی کی بے جا مداخلت، ساہیوال میں گرلز ہاسٹل میں گھس کر چادروچاردیواری کے تقدس کی پامالی سیکرٹری کی ایما پر ہوئی۔ صحت کے امور سے ناواقفیت کے باعث ڈاکٹروں کی ٹریننگ پر پابندی لگا کر ماہر ڈاکٹرز کی شدید کمی پیدا کر دی گئی ہے۔ سولر پاور پراجیکٹ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنے والے نجم شاہ ڈاکٹر کمیونٹی میں سولر شاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ کرپٹ نجم شاہ نے اپنی کرسی بچانے کے لیے برن یونٹس اور سانحہ بہاولپور میں اموات کی تعداد سمیت صحت کی سہولتوں کے بارے میں غلط اعدادوشمار پیش کیے۔ ادارہ صحت کو اپنی کرسی بچانے کے لئے استعمال کرنا اور ڈاکٹرز کی نمائندہ جماعت ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے بارے میں بازاری زبان استعمال کرنے کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرزکے مطابق ہیلتھ کیئر میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کسی سے ڈھکی چھی نہیں اور ایسی صورتحال میں ینگ ڈاکٹرز پر سنٹرل انڈکشن پالیسی کی صورت میں سپیشلائزیشن کا دروازہ بند کرنے کی شرمناک اور مجرمانہ حرکت بھی اسی سیکرٹری ہیلتھ کا طرہ امتیاز ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سنٹرل انڈکشن پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جس کے خاتمہ کا بھر پور مطالبہ کرتے ہیں۔ پنجاب میں ہزاروں ڈاکٹرز ایڈ ہاک بنیادوں پر ڈیوٹیاں سرنجام دینے پر مجبور ہیں ان کو مستقل نہیں کیا جا رہا اور ظلم کی بات یہ کہ دوران ڈیوٹی وفات پانے والے ڈاکٹرز کے لئے کوئی انشورنس پالیسی موجود ہی نہیں۔ پنجاب حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے لئے سروس سٹرکچر کے بلند دعوے کئے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا اور ڈاکٹرز کو سیکیورٹی بھی مہیا نہیں کی جا رہی ۔ حکومت ہیلتھ ڈیلیوری سسٹم کی نجکاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن ان کا یہ مکروہ منصوبہ سسکتی ہوئی انسانیت اورغریب عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کی سازش ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ہیلتھ نجم شاہ سے ہمارا کوئی ذاتی معاملہ نہیں اور ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا اصولی موقف واضح ہے۔ اپنے مطالبات کے حصول تک ہم اپنی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مطالبات

٭ ڈاکٹرز کی سیکیورٹی کے لئے قانون سازی کی جائے۔
٭ ایڈہاک ڈاکٹرز کو فوری طور پر مستقل کیا جائے۔
٭ پنجاب کے خستہ حال صحت کے نظام کے ذمہ دار سیکرٹری ہیلتھ نجم شاہ کو برطرف کیا جائے۔
٭ سروس سٹرکچر کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے۔
٭ نام نہاد سنٹرل ایڈکشن پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ آبادی کے تناسب سے صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

مزید تصاویر:

احتجاج کی ویڈیو:

مزید پڑھیں:

پشاور: خیبر پختونخواہ کے ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*