سندھ: صحت کے نظام کی زبوں حالی اور ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال

رپورٹ: PTUDC سندھ

یوں تو زندہ رہنا ہر انسان کا حق ہے اور زندہ رہنے کے لئے ضروری سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، لیکن نہ یہاں تعلیم کا حصول آسان اور سستا و معیاری ہے اور نہ یہاں صحت مند ماحول، صاف ستھری غذ، فضا، پانی و آب و ہوا میسر ہے اور نہ ہی صحت اور علاج و معالجے کی بہتر سہولیات نظر آتی ہیں۔ صحت جیسی بنیادی سہولت بھی یہاں میسر نہیں ہے، پاکستان کے اپنے سرکاری اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں صحت کی عدم سہولیات اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار بچوں میں تقریباً 86 بچے پانچ سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے مر جاتے ہیں جبکہ زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات بھی خطے کے دوسرے ملکوں کے مابین زیادہ ہے۔سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 75 ہزار 223 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے 1073 افراد کے علاج معالجے کے صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد 90 ہزار ہے۔ ملک میں ہسپتالوں میں بستروں کی صورتحال یہ ہے کہ تقریباً 16 سو افراد کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال میں محض ایک بستر ہے۔

اسی طرح سندھ میں دیکھا جائے تو،حکومت ِسندھ کےمحکمہ صحت نے ’’ صحت سب کے لیے ‘‘ کے نعرے کے تحت عوام کو سستے یا مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کئی عشرے پہلے سے عملدرآمدی منصوبہ تشکیل دیا اور ضلعی سطح پر سول ہسپتال، تعلقہ سطح پر تعلقہ ہسپتال سے لے کر یونین سطح تک بنیادی صحت مراکز ( بیسک ہیلتھ یونٹس) قائم کیے ہیں۔ لیکن نہ تو حکومت اپنے ان سرکاری ہسپتالوں کو درست طریقے سے چلاپارہی ہے اور نہ ہی صوبہ بھر میں اچھی دیکھ بھال کے نام پر قائم بے شمار چھوٹے بڑے ہسپتالوں کے لیے بھی کوئی عوام دوست قوانین یا پالیسیاں بنانے پر مناسب توجہ دے پائی ہے اورنہ ہی ان ہسپتالوں کی نگرانی کا کوئی نظام قائم کر پائی ہے۔ حالات اب یہ ہیں کہ حکومت ان ہسپتالوں کا معیار بہتر کرنے کی بجائے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے اقدامات کر ہی ہے۔ ایک اخباری سروے کے مطابق پانچ کروڑ آبادی کے صوبے میں جتنے ہسپتال کام کر رہے ہیں، وہاں صرف 13 ہزار بستروں کی گنجائش ہے۔ حالت یہ ہے کہ 1300 افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر کی خدمات میّسر ہیں جبکہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق کم از کم دو ڈاکٹر موجود ہونے چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سہولتیں 50فیصد کم حاصل ہیں۔ ڈینٹل سرجنز کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ 16 ہزار مریضوں کے لئے صرف ایک ڈینٹل سرجن کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ پورے صوبے میں ایک ہی برن سنٹر ہے، لیکن وہاں بھی معیاری سہولتوں کا فقدان ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں ہی کی کمی نہیں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تعداد بھی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔نام نہاد ہیلتھ ریفارمز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے کے ہسپتالو ں کو سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے جس سے علاج نا صرف مہنگا ہو گا بلکہ یہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گا۔

اسی تناظر میں سندھ کے محکمہ صحت کے ملازمین عرصہ دراز سے ناقص سہولیات اور اپنی مراعات پر قدنوں کے خلاف سر گرم عمل ہیں حال ہی میں ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ پچھلے ماہ ان کو جھوٹے دلاسے دے کر ان کی ہڑتال کو ختم کروایا گیا لیکن ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے۔ رواں ماہ میں ینگ ڈاکٹر نے صوبہ بھر کے تمام او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹر بند کر دیئے جبکہ مریضوں کے پیش نظر سرکاری ہسپتالوں کے شعبہ حادثات بند کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ کراچی کے سب سے بڑے جناح ہسپتال، سول، این آئی سی ایچ، این آئی سی وی ڈی، لیاری اور جنرل ہسپتالوں کی او پی ڈیز اور او ٹیز بند کردی گئیں۔ ینگ ڈاکٹرزکے مطابق سندھ حکومت کی لولی پاپ اب نہیں چلے گی، اب تک نوٹیفکیشن جاری نہ کر کے حکومت نے مذاق کیا ہے۔ سندھ ڈاکٹرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیاکہ حکومت ہسپتالوں کی نجکاری کرنے کی بجائے ان کے معیار کو بہتر بنائے اور ڈاکٹرز کی تنخواہیں اور الائونسز دوسرے صوبوں کے برابر کی جائیں، ڈاکٹرز کی ترقیوں کا کوئی سسٹم تشکیل دیا جائے۔ صدر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن ڈاکٹر عمر سلطان نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود مراعات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ 7 روز میں تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کریں گے تاہم 11 دن گزرنے کے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، اگرکوئی تاخیر ہے تو آگاہ کیا جائے لیکن ہمیں شک ہے کہ حکومت نوٹیفکیشن جاری کرنا نہیں چاہتی۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) ینگ ڈاکٹرز کی تحریک کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے مطالبات فی الفور مانے جائیں اور حکومت نجکاری پالیسی کی مکروہ پالیسی منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*